ممبئی ۱۴؍ جولائی (ایس او نیوز /پریس ریلیز) ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کے پہلے ایسے مقدمہ جس میں ۳۵؍ ایف آئی آر (مقدمات) کو یکجا کرکے ایک ہی عدالت میں اس کی سماعت کی جارہی ہے کی جاری سنوائی میں ابتک ۲۸؍ سو سرکاری گواہان میں سے ۹؍ سو سرکاری گواہان سے مقدمہ کا سامنا کررہے ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکلاء نے جرح کی ہے ۔
گذشتہ کل احمد آباد کی خصوصی عدالت میں جاری سماعت کا جائزہ لیکر ممبئی پہنچے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے وکیل شاہد ندیم نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ مہاراشٹر کی پڑوسی ریاست گجرات کے تجارتی شہروں احمد آباد اور سورت میں سال ۲۰۰۹ ء میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمات کی سماعت احمد آبا د کی خصوصی عدالت میں جاری ہے اور ابتک اس معاملے میں ۲۶ ؍سو سرکاری گواہوں میں سے ۹ سو سرکاری گواہوں کے بیانات کا اندراج عمل میںآچکا ہے جس میں فریادی، زخمی، ڈاکٹرس ، پنچ ، حادثوں کے مقامات پر موجود عینی شاہدین ، حکومت گجرات کے افسران و دیگر شامل ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ججوں کے تبادلے کی وجہ سے معاملے کی سماعت اس تیزی سے نہیں ہوپارہی تھی لیکن نئے جج اے آر پٹیل کے چارج سنبھالنے کے بعد سے سرکاری گواہان کو عدالت میں گواہی کے لیئے طلب کیا جارہا ہے اور ہفتہ میں تین دن مقدمہ کی سماعت کا شیڈول بنایا گیا ہے ، حالانکہ گجرات حکومت کی جانب سے سی آر پی سی کی دفعہ 268 کے نفاذ کے بعد سے ملزمین کی عدالت میں حاضری پر روک لگی ہوئی ہے لیکن بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ انہیں عدالت کی کارروائی میں شریک کیا جارہا ہے ۔
ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے کہا کہ بھوپال منتقل کیئے گئے دس ملزمین کو واپس احمد آباد بلانے کے لیئے احمد آباد ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی گئی ہے جس پر ۲۰؍ جولائی کو سماعت ممکن ہے نیز احمد آباد کی سابرمتی جیل میں مقید ملزمین پر سے دفعہ 268 ہٹانے کے تعلق سے لائحہ عمل تیار کیا جارہا ہے حالانکہ سپریم کورٹ نے حکم نامہ جاری کیا تھا کہ ملزمین کو دیگر ریاستوں میں ان کے خلاف جاری میں حصہ لینے کے لیئے بھیجا جائے لیکن حکومت گجرات اس کی خلاف ورزی کررہی ہے ۔
ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے بتایا کہ انہوں نے ملزمین کے اہل خانہ اور دفاعی وکلاء سے علیحدہ علیحدہ ملاقات مقامی جمعیۃ کے ذمہ داران مفتی عبدالقیوم،مفتی رضوان، مرزا نور بیگ، سلمان احمد و دیگر کے توسط سے کی اور انہیں یقین دلایا کہ جمعیۃ ہر محاز پر مظلومین کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم کی ہدایت پر ملزمین کی جیل سے رہائی تک قانونی لڑائی لڑتے رہے گی۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے اس ضمن میں کہا کہ اس معاملے میں ملک کے مختلف شہروں سے گرفتار۸۵؍ اعلی تعلیم یافتہ ملزمین میں سے ۶۵؍ مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی پیروی جمعیۃ علماء کررہی ہے ۔
گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ جمعیۃ کے دفاعی وکلاء ایڈوکیٹ ایل آر پٹھان، ایڈوکیٹ ایم ایم شیخ، ایڈوکیٹ این اے علوی، ایڈوکیٹ جے ایم پٹھان ، ایڈوکیٹ الطاف شیخ اور ایڈوکیٹ خالد شیخ پر مشتمل ایک ٹیم عدالت ملزمین کے مقدمات کی پیروی کے لیئے مقرر کی گئی جو ملزمین پر قائم جھوٹے مقدمات کا دفاع کرنے میں مصروف ہے وہیں حسب ضرورت ملزمین کی سیشن عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک ضمانت عرضداشتیں بھی داخل کی جارہی ہیں ۔
گلزار اعظمی نے مزید بتلایا کہ کہ گجرات مقدمہ میں ماخوذین میں سے ۱۳ ، ملزمین کو ممبئی انڈین مجاہدین مقدمہ اور ۷ ملزموں کو دہلی انڈین مجاہدین مقدمہ میں ماخوذ بتا یا گیا ہے نیز اسی طرح انہیں ملزمین کو حیدار آباد اور بنگلور کے بھی بم دھماکوں کے سلسلے میں ماخوز بتایا گیا ہے نیز جمعیۃ علماء ملک کے دیگر صوبوں میں بھی ملزمین کے مقدمات کی پیروی کررہی ہے لیکن ملزمین کی عدم دستیابی کی وجہ سے احمد آباد کو چھوڑ کر دیگر شہروں کے مقدمات سست روی کا شکا رہیں ۔